ٹرمپ کی پیوٹن سے الاسکا میں ہونے والی ملاقات

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

ٹرمپ کی پیوٹن سے الاسکا میں ہونے والی ملاقات

(ترجمہ)

سوال:

امریکی صدر ٹرمپ اور روسی صدر پیوٹن نے 16 اگست 2025ء کو الاسکا میں ملاقات کی۔ کیا وہ اہم معاملات پر کسی معاہدے پر پہنچے؟ اس ملاقات کا دونوں ممالک کے تعلقات اور یوکرین پر کیا اثر پڑے گا؟ نیز بین الاقوامی طور پر یورپ اور چین پر اس ملاقات کے کیا اثرات ہوں گے؟


جواب: 

درج بالا سوالات کے جوابات کو واضح کرنے کے لئے ہم مندرجہ ذیل نکات کا جائزہ لیتے ہیں:


1- پچھلی تین دہائیوں میں امریکہ اور روس کے تعلقات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ 1991ء میں سوویت یونین کے انہدام سے پہلے یہ تعلقات دو سپر پاورز کے مابین تھے جو کہ دنیا کے امور پر قابض تھیں۔ لیکن سوویت یونین کے زوال کے بعد روس عالمی منظرنامے سے پیچھے ہٹ گیا اور اپنے ہی اندر سمٹ کر رہ گیا، جبکہ امریکہ روس کے زوال کی گہرائی پر کڑی نظر رکھے رہا اور روس کے سوویت اثر و رسوخ والے علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ بعد ازاں روسی صدر پیوٹن نے روس کو ایک بڑی طاقت کے طور پر دوبارہ عالمی مقام بحال کرنے کی کوشش کی، جسے امریکہ نے مسترد کر دیا۔ دونوں ممالک کے اہداف کے درمیان اس شدید ٹکراؤ کی نشاندہی 2022ء میں یوکرین کی جنگ سے ہوئی۔ اس جنگ کے ذریعے روس اپنی عالمی حیثیت کو طاقت کے زور پر بلند کرنا چاہتا تھا، جبکہ امریکہ یوکرین کی حمایت کے ذریعے روس کو بڑی طاقتوں کی فہرست سے نکالنے کا خواہاں تھا۔ یہ صورتحال بائیڈن انتظامیہ کے اختتام تک برقرار رہی۔ جب ٹرمپ دوبارہ امریکہ کا صدر بنا تو اس نے امریکہ کی توجہ چین کے خلاف موڑنا شروع کی اور اعلان کیا کہ وہ روس کے ساتھ کشیدگی کم کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ یوکرین کی جنگ کو 24 گھنٹوں میں ختم کر سکتے ہیں، اور یہ جنگ ان کی نہیں بلکہ بائیڈن کی جنگ تھی۔ اس طرح ٹرمپ کے دور میں امریکہ نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات میں تبدیلی لانا شروع کی۔ یہ تبدیلی اس وقت واضح طور پر نظر آئی جب صدر ٹرمپ نے بارہا یوکرینی صدر زیلنسکی کی ہتک کی، یوکرین کے لئے امریکی فوجی امداد پر سخت تنقید کی، اور اس نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ یوکرین میں اپنی مالی اور فوجی ذمہ داریاں خود پوری کریں۔


2- یوکرین کی جنگ نے روس کی عالمی حیثیت کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ روس کی فوج یوکرین میں تیزی سے اور کوئی خاص بڑے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی۔ اس کے بحری بیڑے کا تقریباً نصف حجم بحیرۂ اسود میں تباہ ہو چکا ہے، روس کے اندر تک واقع اسٹرٹیجک اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، اور اس نے اپنی زمینی فوج کے اہم حصے کھو دیئے ہیں، جن میں ساز و سامان کے ساتھ ساتھ جرنیل بھی شامل ہیں۔ تاہم، روس کو شکست نہیں ہوئی اور وہ اب بھی یوکرین کے اندر پیش رفت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، چاہے اسے چیونٹیوں کی رینگنے جیسی رفتار ہی کیوں نہ کہا جائے۔ لیکن روس مایوسی کا اظہار کرتا نظر آیا، کہ اس نے اپنے آپ کو نیٹو کی فوجی صلاحیتوں کے مقابل کھڑا پایا، گویا کہ وہ نیٹو ممالک سے براہ راست جنگ لڑ رہا تھا، اور کبھی کبھار تو وہ جوہری بیان بازی اور تیاریوں پر بھی اتر آیا۔ یہ نہایت خطرناک صورتحال ہے، اور امریکہ یہ بالکل نہیں چاہتا۔ یعنی، یوکرین کی جنگ نے اس بات کو واضح کیا کہ معاملہ ایٹمی جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ یوکرین کی جنگ نے روسی صدر پیوٹن کو مجبور کیا کہ وہ چین کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرے۔ اگرچہ امریکہ اس رجحان کی توقع کر رہا تھا، اور اس کے باوجود کہ چین نے روس کے ساتھ وہی گرم جوشی نہیں دکھائی کہ کہیں وہ امریکہ اور یورپ کے ساتھ اپنے اہم تجارتی تعلقات کو نہ کھو بیٹھے، لیکن دنیا کی دوبارہ تقسیم اس طرح ہوئی جیسے دو فوجی کیمپ بن گئے ہوں، یہ وہ آخری چیز ہے جو امریکہ چاہتا ہے۔ امریکہ بالکل بھی یہ نہیں چاہتا کہ چین کی معاشی طاقت اور روس کی عسکری طاقت ایک ہی کیمپ میں یکجا ہو جائیں۔


3- یوکرین کے محاذ پر امریکہ کی جانب سے روس کو اسٹریٹجک شکست دینے کے منصوبے نے روس کو اپنے میزائل اور ایٹمی ہتھیاروں میں اضافہ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ امریکہ کے 2019ء میں "انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلئیر فورسز ٹریٹی" (Intermediate-Range Nuclear Forces Treaty) سے نکلنے کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان جوہری معاہدے نہایت کم سطح پر ہیں۔ روس نے نہ صرف یوکرین کی جنگ میں ہائپر سونک میزائل سسٹم استعمال کیا بلکہ 2024ء میں "اوری‌ شینیک" (Orishnik) نامی نہایت تباہ کن میزائل بھی متعارف کرایا۔ اور بالآخر، پیوٹن اور ٹرمپ کی ملاقات سے کچھ پہلے روس نے نئے تجربات کا اعلان کیا، جن کے بارے میں امریکہ پہلے ہی روسی تیاریوں سے واقف تھا۔ یہ تجربات جوہری انجنوں سے چلنے والے ایٹمی میزائلوں کے تھے، یعنی یہ بے انتہا رفتار اور رینج کے حامل ہیں۔ یہ پیش رفت نہ صرف امریکہ کے لئے نہایت خطرناک ہے بلکہ اس کے اُس میزائل شیلڈ نظام کو بھی بے معنی کر دیتی ہے جس پر وہ فخر کرتا رہا اور جس پر اربوں ڈالر خرچ کئے گئے۔ اس کے ساتھ یہ امریکہ کے لئے اس بات کی بھی تصدیق ہے کہ روس ایک نئی اسٹریٹجک فوجی دوڑ کی طرف بڑھ رہا ہے، چاہے اس کی معیشت پر اس کی کتنی ہی بھاری قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔ یہ امر امریکہ کو مجبور کرتا ہے کہ وہ روس کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچے تاکہ اس کی پیش قدمی کو روکا جا سکے اور سرد جنگ جیسی فوجی دوڑ سے بچا جا سکے۔


4- روس کو یوکرین میں ممکنہ فوجی شکست کا سامنا ہوا، کیونکہ اس کی فوج کا ایک سپر پاور کی حیثیت رکھنے کا امیج بکھر کر رہ گیا اور وہ یوکرینی فوج کو شکست دینے میں ناکام رہا۔ جنگ اُتار چڑھاؤ کا شکار رہی، یعنی روس فیصلہ کن طاقت کی برتری سے محروم ہو گیا، اور اس حقیقت نے روس کی عالمی حیثیت کو سخت نقصان پہنچایا۔ علاوہ ازیں، یوکرین میں فوجی کمزوری کے ساتھ ساتھ روس کو مغربی پابندیوں کے ایک شدید پیکج کا بھی سامنا کرنا پڑا جس نے اسے عالمی معیشت سے تقریباً باہر کر دیا، اور عالمی سطح پر روس کو نہایت تنہائی میں دھکیل دیا۔ حتیٰ کہ روسی صدر بیرونِ ملک آزادانہ نقل و حرکت بھی نہیں کر سکتا تھا، کیونکہ اس کے خلاف عالمی فوجداری عدالت (ICC) نے گرفتاری کے وارنٹ جاری کر رکھے تھے۔ اس صورتِ حال کے نتیجے میں روس نے اپنی تمام تر معاشی اور فوجی توانائیاں جھونک دیں تاکہ یوکرین کی جنگ میں اسٹرٹیجک شکست کے سائے کو خود سے دور رکھ سکے۔ اس کی معیشت "جنگی معیشت" بن گئی، اور وہ یہ سمجھتا رہا کہ اس کی عالمی حیثیت کا فیصلہ یوکرین کی جنگ ہی کرے گی۔ لیکن شکست کا خوف روس کے سر پر منڈلاتا رہا، اور سب سے بڑا خطرہ یہ تھا کہ کہیں نیٹو براہِ راست مداخلت نہ کرے اور ایک کھلی جنگ روس پر مسلط نہ کر دے، جس کا مقابلہ روس صرف اپنے جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے ہی کر سکتا ہے۔ لیکن ان ہتھیاروں کا استعمال نہایت خطرناک اور ہولناک ہے۔ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے شروع کئے اور اس کے صدر کی تعریف کرنی شروع کی تو روس نے قدرے سکون کا سانس لیا، کیونکہ یہ اس بات کی علامت تھی کہ امریکہ روس کو اسٹریٹجک شکست دینے کے اپنے منصوبے سے ہٹ رہا ہے۔ روس نے شاید یہ سوچا ہو کہ ٹرمپ کی پیشکشوں کو جوں کا توں قبول کر لے تاکہ اپنی مشکلات کو محدود کر سکے، لیکن وہ اس دَر کو بھی غور سے دیکھ رہا ہے جو ٹرمپ نے عالمی میدان میں روس کی واپسی کے لئے کھولا ہے۔ روس اس خدشے میں مبتلا ہے کہ کہیں یہ دروازہ بھی بند نہ ہو جائے، اور ساتھ ہی وہ چاہتا ہے کہ جلد از جلد اس میں داخل ہو جائے۔


5- جب امریکہ نے دیکھا کہ روس جنگ روکنے میں ٹال مٹول اور ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہا ہے، اور مغرب میں یہ آوازیں بلند ہونے لگیں کہ صدر پیوٹن دراصل ٹرمپ کے حالیہ رویّے اور یوکرین کی جنگ ختم کرنے کی خواہش کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، تو امریکی صدر نے اعلان کیا کہ روس کو جنگ ختم کرنے کے لئے 50 دن کی مہلت دی جاتی ہے۔ روس اس مہلت پر سخت برہم ہوا اور وضاحتیں طلب کیں، لیکن اس کے باوجود وہ اس مدت کے اندر بھی ٹال مٹول کرتا رہا تاکہ اس مہلت کو آخری لمحے تک استعمال کر سکے۔ اس صورتحال نے امریکی صدر کو مجبور کیا کہ وہ روس کو یو ٹرن لینے، یعنی دروازہ بند کرنے اور بائیڈن انتظامیہ کی پالیسیوں پر واپس جانے کی دھمکی دیں۔ چنانچہ انہوں نے اعلان کیا کہ یہ مدت گھٹا کر صرف 10 دن کر دی گئی ہے۔ روس نے اپنے نائب قومی سلامتی مشیر اور سابق صدر میدویدیف (Medvedev) کے ذریعے، اس اعلان کو جنگ کی طرف ایک قدم کے طور پر دیکھا۔ میدویدیف (Medvedev) نے امریکہ کو روس کے "مہلک جوہری ہاتھ" (Deadly Nuclear Hand) کی یاد دہانی کرائی۔ اس پر امریکی صدر نے ان کے ساتھ تند و تیز الفاظ کا تبادلہ کیا اور متنبہ کیا کہ وہ ایک نہایت خطرناک علاقے میں قدم رکھ رہے ہیں۔ امریکہ کی اس دھمکی کے ساتھ کہ وہ یو ٹرن لے کر دوبارہ یوکرین کی حمایت کرے گا اور روس پر مزید سخت پابندیاں عائد کرے گا، ایسی پابندیاں جن میں وہ سب ممالک شامل ہوں گے جو روس سے تیل خریدتے ہیں، بالخصوص چین، اور یوں اس موقع پر ماسکو کے لئے فیصلہ کن قدم اٹھانے کا وقت آن پہنچا۔


6- یوں روس نے یہ دیکھا کہ اسے فوری طور پر امریکہ کے ساتھ مصالحت کی طرف بڑھنا چاہیے، کیونکہ وہ یہ نہیں چاہتا کہ یوکرین کے لئے امریکی حمایت کی رفتار دوبارہ بحال ہو، جو اس پر مزید دباؤ ڈالے گی اور نہ ہی وہ یہ موقع گنوانا چاہتا تھا جو صدر ٹرمپ نے اسے عالمی تنہائی ختم کرنے کے لئے فراہم کیا تھا۔ اس کے علاوہ روس کو چین کے بارے میں بھی شکوک و شبہات ہیں۔ کیونکہ اگر چین کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ سستا روسی تیل لینے اور امریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو برقرار رکھنے میں سے کسی ایک کو چنے، تو وہ یقیناً امریکہ کو ترجیح دے گا کیونکہ اس میں زیادہ فوائد ہیں۔ علاوہ ازیں، ٹرمپ کی طرف سے امن کی پیشکش روس کے لئے اس لحاظ سے پرکشش تھی کہ وہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست معاہدہ کر سکے، بالکل ویسا ہی جیسا 1945ء میں یالٹا کانفرنس (Yalta Conference) کے دوران ہوا تھا۔ روس کسی دوسرے فریق، چاہے وہ یورپی ہوں یا یوکرینی، ان کو شامل نہیں کرنا چاہتا تھا، بلکہ چاہتا تھا کہ پہلے امریکہ کے ساتھ براہِ راست معاہدہ کرے اور پھر دوسروں پر اسے ایک "امرِ واقع" کے طور پر مسلط کر دے۔ اسی لئے روس نے امریکی صدر ٹرمپ کے ایلچی، اسٹیو وٹکوف (Steve Witkoff)، سے ملاقات کی درخواست کی تاکہ روس کو دی گئی ڈیڈ لائن کے تصور کو ختم کیا جا سکے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لئے روس کو اپنے کچھ مطالبات سے پیچھے ہٹنا ہوگا۔ دونوں صدور کی سربراہی کانفرنس کی منظوری سے قبل، اور مختصر تیاری کے عرصے کے دوران، دونوں فریقوں کی جانب سے اس ملاقات کی خواہش کے آثار نظر آنے لگے۔ واقعی، ٹرمپ نے روس کی درخواست پر اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف (Steve Witkoff) کو ماسکو بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی۔ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان مواقع اور زمینوں اور سرحدوں کے تبادلے کے بارے میں بات کی، جبکہ روس نے امریکہ کی سنجیدگی پر گفتگو کی۔ پیوٹن نے کہا کہ "ماسکو امن کے قیام کے لئے حالات پیدا کرنے پر کام کر رہا ہے، اور یہ کہ امریکہ یوکرین کے حوالے سے صورتحال کو حل کرنے کے لئے مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے۔ پیوٹن نے واشنگٹن کے ساتھ اسٹریٹجک جارحانہ ہتھیاروں کو محدود کرنے کے معاہدوں تک پہنچنے کی اہمیت پر زور دیا" (الجزیرہ عربی، 14 اگست 2025)۔ روس نے اس بات پر بھی رضامندی ظاہر کی کہ سربراہی اجلاس الاسکا یعنی امریکہ میں منعقد کیا جائے، جو ٹرمپ کو خوش کرنے کے لئے ایک علامتی قدم تھا۔ "ٹرمپ نے کہا: صدر پیوٹن کا الاسکا آنے اور مجھ سے ملاقات کرنے کا فیصلہ انتہائی قابل قدر اقدام ہے" (آر ٹی، 12 اگست 2025)


7- تاہم، ایک اور زاویے سے دیکھا جائے تو امریکہ، جس نے ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس آنے کے بعد کئی مہینوں تک روس کی ٹال مٹول کو دیکھا تھا، یہ نہیں چاہتا تھا کہ یہ سربراہی اجلاس روس کی جانب سے کسی رعایت کے بغیر ہو۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ اجلاس "تحقیقاتی" ہے، اور وہ اجلاس کے پہلے ہی منٹوں میں جان لیں گے کہ آیا پیوٹن یوکرین کی جنگ ختم کرنے میں سنجیدہ ہیں یا نہیں۔ انہوں نے اجلاس کی ناکامی کا خدشہ ظاہر کیا اور اس کے ناکام ہونے کا امکان 25 فیصد قرار دیا، ساتھ ہی روس کو سنگین نتائج کی دھمکی دی: "امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے یوکرین میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی تو انہیں سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر جمعہ کو الاسکا میں ہونے والی ملاقات میں کوئی ٹھوس نتائج نہ نکلے تو روس پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ پیوٹن کے ساتھ یہ ملاقات ایک تیاری ہوگی اس دوسرے اجلاس کی جس میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی بھی شامل ہوں گے، اور اس کا انعقاد الاسکا اجلاس کے نتائج پر منحصر ہوگا" (عرب 48، 14 اگست 2025)۔ پھر سات سال بعد پہلی بار پیوٹن سے ملاقات کے لئے الاسکا کے شہر اینکریج کی طرف روانگی سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پیوٹن کے ساتھ ملاقات کو "انتہائی خطرناک نوعیت کی" قرار دیا۔ ٹرمپ نے اپنی خواہش بھی ظاہر کی کہ وہ بہت جلد جنگ بندی دیکھنا چاہتے ہیں۔ (انڈیپنڈنٹ عربیہ، 15 اگست 2025)۔ اسی کے ساتھ ٹرمپ نے کہا کہ اگر پیوٹن سنجیدہ نہ نکلے تو وہ الاسکا سے فوراً واشنگٹن واپس لوٹ آئیں گے: "امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعہ کو الاسکا کے شہر اینکوریج میں ایلمندورف ایئر بیس (Elmendorf Air Force Base) پہنچے، اور کہا کہ اگر صدر پیوٹن کے ساتھ سربراہی اجلاس ٹھیک نہ رہا تو وہ فوراً چلے جائیں گے" (سی این این عربیہ، 15 اگست 2025)۔ یہ اعلان کہ اجلاس کے دوران ہی ٹرمپ اٹھ کر جا سکتے ہیں، روسی صدر پیوٹن کے لئے ایک طرح کی توہین آمیز بات تھی، کیونکہ وہ امریکہ میں آ کر ٹرمپ سے ملاقات کر رہے تھے۔


8- یہ تمام بیانات روس پر دباؤ ڈالنے کے لئے تھے تاکہ وہ رعایتیں دے، کیونکہ اسے سنگین نتائج، پابندیوں اور حتیٰ کہ ملاقات چھوڑنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کے درمیان یہ ملاقات مساوی حیثیت کی حامل نہیں تھی، جیسا کہ ماضی میں سوویت یونین اور امریکی رہنماؤں کے درمیان اہم ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ یوں یہ دو بڑی طاقتوں کی میٹنگ نہیں تھی، بلکہ یہ اس سطح پر بھی نہیں پہنچی جس پر امریکہ اور چین کی سربراہی ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ اس میں امریکہ کے غرور اور روس کو جھکنے پر مجبور کرنے کا پہلو نمایاں تھا، اور یہ ملاقات اس نئی روسی ریاست کے زوال کا مظہر تھی، جس نے یہ سب شرائط، ڈیڈ لائنز اور امریکی دھمکیاں قبول کر لیں۔ روس کا صدر خود امریکہ گیا تاکہ ٹرمپ سے ملاقات کر سکے، بجائے اس کے کہ یہ ملاقات کسی تیسرے ملک میں ہوتی۔ شاید یہ بات بھی روس کی اطاعت کی علامت ہے کہ روسی صدر پیوٹن نے امریکی صدر کی یہ پیشکش قبول کر لی کہ وہ ان کی ذاتی گاڑی میں ساتھ بیٹھیں، حالانکہ پیوٹن کی اپنی کار بھی موجود تھی جو ان کے تمام بین الاقوامی اجلاسوں میں ان کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہ روس کی مجبوری اور ٹرمپ کے ساتھ گرم جوش تعلقات کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے تاکہ وہ اپنے اسٹریٹجک نقصانات کو کم کر سکے۔ اس کمزوری کی ایک اور علامت یہ تھی کہ بائیڈن کے دور میں تعلقات کی شدید کشیدگی کے باوجود، صدر پیوٹن ٹرمپ کو اپنی طرف آمادہ کرنے پر مجبور نظر آئے تھے۔ پیوٹن کے معاون یوری اوشاکوف (Yuri Ushakov) نے کہا: "روس اور امریکہ کے درمیان تعاون کی بے پناہ صلاحیت ہے جس سے ابھی فائدہ اٹھایا جانا باقی ہے"۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ روسی وفد میں صدر کے معاون یوری اوشاکوف (Yuri Ushakov)، وزیر خارجہ سرگئی لاوروف (Sergei Lavrov)، وزیر خزانہ انطون سیلوانوف (Anton Siluanov)، اور روسی ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ کے سربراہ کیریل دمترییف (Kirill Dmitriev) شامل ہیں۔ (آر ٹی، 14 اگست 2025)۔ یہ سب کچھ روس کی کمزوری کی طرف اشارہ کرتا ہے، جسے امریکہ یقیناً بھانپ رہا ہے۔ اور غالباً صدر پیوٹن کے بیانات بھی اس کمزوری اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی کشیدگی کے بارے میں روس کی گہری تشویش ظاہر کرتے ہیں۔ پیوٹن نے پریس کانفرنس میں اپنی تقریر کا آغاز اس اعتراف سے کیا کہ حالیہ برسوں میں امریکہ اور روس کے تعلقات خراب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا: "یہ بات سب جانتے ہیں کہ گزشتہ چار سالوں سے روس اور امریکہ کے درمیان کوئی سربراہی اجلاس منعقد نہیں ہوا، جو ایک طویل عرصہ ہے۔ یہ مدت دوطرفہ تعلقات کے لئے نہایت مشکل رہی، اور صاف کہوں تو یہ سرد جنگ کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئے۔ میرا خیال ہے کہ یہ نہ ہمارے دونوں ملکوں کے لئے فائدہ مند ہے اور نہ ہی دنیا کے لئے"۔ انہوں نے مزید کہا: "دونوں ممالک کے صدور کے درمیان براہِ راست ملاقات کا طویل عرصے سے انتظار تھا"۔ پیوٹن نے مزید کہا: "بات چیت باہمی احترام اور تعمیری انداز میں ہوئی، جو جامع اور نہایت مفید رہی" (سی این این عربیہ، 16 اگست 2025)


9- خلاصہ یہ ہے کہ اگر ٹرمپ اور پیوٹن کی ملاقات اور اس کی میڈیا کوریج پر غور کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ ان کی بات چیت میں درج ذیل نکات شامل تھے:


(الف) یوکرین: اگرچہ واحد نہیں لیکن یہ سب سے اہم موضوع تھا، مگر یہی سب سے نمایاں اور متنازعہ مسئلہ رہا۔ روس کے سخت سکیورٹی مطالبات یعنی یوکرین کو نیٹو سے دور رکھنا اور یہ کہ وہ ایک طاقتور فوج نہ بنائے جو روس کے لئے خطرہ ہو، ان کے باوجود سربراہی اجلاس میں ایک واضح معاہدہ سامنے آیا، جس کا ایک پہلو یہ تھا کہ روس نے آئندہ یوکرین پر حملہ نہ کرنے کا عہد کیا"۔ پیوٹن نے اس بات پر زور دیا کہ وہ یوکرین کی سلامتی کو یقینی بنانے کی ضرورت سے متفق ہیں۔ پیوٹن نے کہا: میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اس بات پر متفق ہوں کہ یوکرین کی سلامتی کو یقینی بنانا ضروری ہے، اور ہم یقیناً اس پر کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: مجھے امید ہے کہ جو معاہدہ ہم نے مل کر کیا ہے وہ اس مقصد کے حصول میں مددگار ثابت ہوگا اور یوکرین میں امن کے راستے کو ہموار کرے گا" (سی این این عربی، 16 اگست 2025)۔ اس معاہدے کے وجود کی تصدیق اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ امریکی صدر نے پیوٹن کے ساتھ اپنی ملاقات کو "10 میں سے 10 نمبر" دیئے۔ (اسکائی نیوز، 16 اگست 2025)۔ امریکہ اب یوکرین میں جنگ کو ٹھنڈا کرنے اور بالآخر ختم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کے لئے امریکہ آہستہ آہستہ یوکرین کو دی جانے والی امریکی اور مغربی فوجی امداد کم کرے گا، پھر جنگ بندی کا اعلان ہوگا۔ غالب امکان ہے کہ اس کے لئے ایک اور سربراہی اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں ٹرمپ اور پیوٹن کے ساتھ یوکرین کے صدر زیلنسکی بھی شامل ہوں گے، اور یہ اجلاس آنے والے چند ہفتوں میں ممکن ہے۔ اس کے بعد یوکرین کا مسئلہ آہستہ آہستہ سلجھانے کی پالیسی اختیار کی جائے گی، جو شاید کئی برسوں تک چلے۔ یعنی، امریکہ آخری حل کو مؤخر کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی ہو جائے، جبکہ حتمی حل کئی برسوں میں مکمل ہو، جس دوران امریکہ یوکرین کو مجبور کرے گا کہ وہ اپنے علاقوں اور سرحدوں سے اس حد تک دستبردار ہو کہ روس دوسرے مسائل پر امریکہ کو رعایتیں دے۔ یہ ایسے ہوگا جیسے امریکہ روس کو یہ لالچ دے رہا ہو کہ وہ یوکرین میں اپنی موجودہ قبضے کی حدود کو تسلیم کرا لے، لیکن اس کے بدلے وہ شرائط پوری کرے جو امریکہ کو منظور ہوں۔


(ب) امریکہ و روس تعلقات کی بحالی: یہ عمل اگرچہ اپریل 2025ء میں استنبول ملاقات سے شروع ہو چکا ہے، لیکن امکان ہے کہ اب یہ زیادہ تیزی سے اور نمایاں انداز میں آگے بڑھے گا، خاص طور پر دوسری ملاقات کے بعد جس میں یوکرین بھی شامل ہو سکتا ہے تاکہ جنگ بندی کا اعلان کیا جا سکے۔ تعلقات کی بحالی امریکہ کے لئے نہایت اہم ہے تاکہ وہ دیگر اسٹریٹجک معاملات پر مذاکرات کا آغاز کر سکے۔


(ج) اسلحے کی دوڑ اور اسٹریٹجک طاقت: قوی امکان ہے کہ دونوں فریق جلد از جلد جوہری اور میزائلی ہتھیاروں کے کنٹرول پر مذاکرات شروع کریں۔ غالباً روس اس بار امریکہ کی اُس پرانی شرط کو مان لے گا کہ ان مذاکرات میں چین کو بھی شامل کیا جائے، تاکہ یہ مذاکرات سہ فریقی ہوں۔ اس سے پہلے روس–امریکہ معاہدے دو بڑی فوجی طاقتوں کے مابین دہائیوں سے چلے آ رہے تھے، لیکن امریکہ نے انہیں روک دیا تھا کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ اب چین کو بھی ساتھ شامل کرے۔ خاص طور پر اس لئے کہ چین اس وقت جوہری ہتھیاروں کے ایسے پروگرام نافذ کر رہا ہے جو جلد ہی اسے دو بڑی طاقتوں کی صف میں لا کھڑا کریں گے، کیونکہ اس کا ایٹمی پروگرام 2030ء تک تقریباً ایک ہزار ایٹمی وار ہیڈز کے حصول کا باعث بنے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کئی سالوں سے برطانیہ اور فرانس جیسی درمیانی سطح کی ایٹمی طاقتوں کو پیچھے چھوڑ چکا ہوگا۔ اس لئے غالب امکان ہے کہ چین کو روس۔امریکہ کے اسٹریٹیجک ہتھیاروں کے مذاکرات میں شامل کرنے کے حوالے سے روس کی تمام جھجک دور ہو چکی ہے۔ یہ امریکہ کے لئے ایک ایسا قدم ہے جو روس۔چین اتحاد کو آہستہ آہستہ توڑنے کی راہ ہموار کرے گا۔ امریکہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے روس کے ساتھ قربت کے اقدامات کرے گا تاکہ براہِ راست چین کو نشانہ بنائے بغیر اور روس کے جذبات کو ٹھیس پہنچائے بغیر، روس۔چین اتحاد کو بتدریج کمزور کیا جا سکے۔


10- آخرکار یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے کہ دنیا پر کافر ممالک کا قبضہ ہے، ان کے حکمران آپس میں ملاقاتیں کرتے ہیں، بات چیت کرتے ہیں اور منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ جبکہ امتِ مسلمہ، جو کہ بہترین امت ہے جو لوگوں کے لئے اٹھائی گئی ہے، تاہم یہ، ایک عوامی پلیٹ فارم ہونے کے باوجود، اس وقت بین الاقوامی واقعات پر کوئی اثر نہیں ڈال رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ امت اپنے معاملات پر آزادانہ کنٹرول کی صلاحیت بھی نہیں رکھتی بلکہ اس کے امور کافر استعمار کے ہاتھوں چلائے جا رہے ہیں!! مسئلہ یہ ہے کہ یہ امت، جس کی تعداد تقریباً دو ارب ہے، ایک ایسا بدن ہے جس کا کوئی سر نہیں۔ خلافت جو اسے یکجا کرتی ہے قائم نہیں ہے اور خلیفہ جو اس کے امور کی نگرانی کرتا ہے، جس کے پیچھے لوگ جہاد کرتے ہیں اور جس کے ذریعے وہ محفوظ رہتے ہیں، وہ موجود نہیں ہے! تاہم خلافت، اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حکم اور وعدے اور اس کے رسول ﷺ کی بشارت کے مطابق اِن شاء اللہ، ضرور واپس آئے گی۔ لیکن اللہ کا شرعی قانون یہ ہے کہ فرشتے آسمان سے نہیں اتریں گے کہ وہ خلافت ہمارے لئے قائم کر دیں جبکہ امت خود اس کے قیام کے لئے کام نہ کرے۔ بلکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرشتے اس وقت نازل فرماتا ہے جب ہم اس کے قیام کے لئے جدوجہد کر رہے ہوتے ہیں۔ حزب التحریر، ایسی جماعت ہے جو جھوٹ نہیں بولتی، امت کو پکارتی ہے کہ وہ اس کے ساتھ مل کر خلافت کے قیام کے لئے کام کرے۔ پھر اسلام اور مسلمان عزت پائیں گے اور کفر اور کفار ذلیل و رسوا ہوں گے۔ 


اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 

﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُون * بِنَصْرِ اللهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾

"اور اُس روز مومن خوش ہوجائیں گے۔ اللہ کی مدد سے، اللہ جسے چاہتا ہے نصرت عطا فرماتا ہے اور وہ غالب ہے، نہایت مہربان ہے" (سورۃ الروم:4-5)


25 صفر الخیر 1447 ہجری

19 اگست 2025 عیسوی


#امیر_حزب_التحریر

Comments

Popular posts from this blog

سباب اور مسببات