سباب اور مسببات
بسم اللہ الرحمن الرحیم *اسباب اور مسببات… کیا نتائج کا حاصل کرنا ہمارے ہاتھ میں ہے؟* *مثال کے طور پر نصرۃ۔* (ترجمہ) اسباب اور مسببات کا مطالعہ، اسباب اور نتائج کے باہمی تعلق کا جائزہ، یا جسے سببیّت کا قانون کہا جاتا ہے، اور یہ کہ آیا یہ تعلق ثابت اور غیر متغیر ہے یا نہیں، یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر علمی، فکری اور شرعی تحقیق کرنے والے علماء طویل عرصے سے غور وفکر کرتے آئے ہیں۔ عملی طور پر تمام لوگوں کے درمیان یہ بات مسلم ہے کہ یہ تعلق بدیہی اور قطعی ہے، اور یہ ربط و تعلق دراصل اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی عطا کردہ قدر اور اس کی وہ قدرت ہے جو اشیاء اور انسانوں میں کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ اس سیاق میں "سبب" کی اصطلاح دو معنوں میں استعمال ہوتی ہے۔ ایک وہ مفہوم جو عقلی اور مادی امور دونوں میں مراد لیا جاتا ہے، یعنی کوئی ایسی چیز جو کسی دوسری چیز کا سبب ہو اور جس سے کوئی نتیجہ پیدا ہو۔ مثال کے طور پر، کسی ٹھوس چیز سے ٹکرانے پر شیشے کا ٹوٹ جانا، یا اگر رسی ٹوٹ جائے تو اس سے لٹکی ہوئی کسی شے کا گر جانا، یا اندرونی دباؤ کے بڑھتے چلے جانے سے کسی بند شے کا پھٹ جانا۔ یہ ٹکر لگنا، ٹوٹ جانا یا دباؤ...